نئی دہلی ،06؍جون(ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا )سنندا پشکر قتل کیس میں ملزم بنائے جانے کے بعد کانگریس لیڈر ششی تھرور کو بڑی راحت ملی ہے۔ای ڈی آئی پی ایل کیس کی تحقیقات نہیں کرے گا۔دہلی پولیس نے ای ڈی سے تھرور کے خلاف آئی پی ایل کیس کی تحقیقات کرنے کو کہا تھاکہ دہلی پولیس کا کہنا تھا کہ آئی پی ایل اینگل سے جانچ کرنے پر نئے حقائق سامنے آ سکتے ہیں، لیکن دہلی پولیس نے جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے وہ ای ڈی کے انکوائری دائرے میں نہیں آتے۔لہٰذا ای ڈی انکوائری نہیں کرے گا۔دہلی پولیس نے تعزیرات ہند کی دفعہ 306 اور 498 (اے)کے تحت الزام خط دائر کیا ہے۔دونوں دفعات ای ڈی کے دائرے سے باہر ہے۔ایس آئی ٹی کی تفتیش میں کوچی ٹیم کو خریدنے سے پہلے بہت داؤ پیچ کھیلے گئے تھے۔تحقیقات میں یہ بھی پتہ چلا تھا کہ سنندا پشکر کو اسٹاک کسی رقم کے بدلے نہیں دیے گئے تھے، بلکہ ان کا اسٹاک سویٹ اسٹاک کے زمرے میں آتا ہے۔سویٹ یعنی کسی شخص کی محنت کے بدلے کمپنی میں ملنے والا اسٹاک۔پولیس کی تحقیقات کر رہی تھی کہ سنندا نے ایسا کیا کیا تھا کہ اسے آئی پی ایل کمپنی میں 70 کروڑ روپے کا اسٹاک دیا گیا۔یہی نہیں اس کمپنی کی بولی لگنے کے وقت بھی دھاندلی ہوئی تھی۔ پولیس کی تحقیقات میں یہ سامنے آیا تھا کہ وزیر رہتے وقت تھرور نے کمپنی کی بولی کے وقت کچھ ایسے کام کیے تھے، جس سے کوچی ٹیم کو خریدنے میں آسانی ہوئی۔حالانکہ لوک سبھا میں تھرور نے کہا تھا کہ انہوں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا۔اس معاملے میں گجرات کے ایک ہیرے کاروباری کی شروع کی گئی کمپنی میں کئی ایسے لوگ تھے، جن کے پاس پیسے تو نہیں تھے، مگر انہیں حصہ کے طور پر حصہ ملے تھے۔آئی پی ایل میں سب سے مہنگی ٹیم کوچی ٹسکر 700کروڑ میں خریدی گئی تھی، لیکن اس کمپنی میں کون کون لوگ ہیں، یہ نہیں بتایا گیا تھا۔